ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، معاہدے کی امید بھی ظاہر

0
ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، معاہدے کی امید بھی ظاہر

ٹرمپ کا ایران پر سخت مؤقف، معاہدے کی امید بھی ظاہر

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)واشنگٹن: Donald Trump نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر جاری بیان میں ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے Strait of Hormuz میں فائرنگ کر کے سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان “عجیب” ہے کیونکہ امریکی ناکہ بندی کے باعث یہ راستہ پہلے ہی بند ہو چکا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اس صورتحال سے ایران کو روزانہ تقریباً 500 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے جبکہ امریکا کو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچ رہا۔

امریکی صدر نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو امریکا ایران میں پاور پلانٹس اور انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ امریکا ایران کو ایک “اچھا معاہدہ” پیش کر رہا ہے اور امید ہے کہ ایران اسے قبول کر لے گا۔

اس سے قبل ایک امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پا سکتا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے مذاکرات کار
رواں ہفتے کے اختتام پر ملاقات کر سکتے ہیں جہاں کسی حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ Middle East میں استحکام اور Israel کی سیکیورٹی کو بھی بہتر بنائے گا۔

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ Lebanon میں اسرائیلی حملے فوری طور پر بند ہونے چاہئیں اور یہ جنگ بندی کا حصہ ہونا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی اور امریکا اس حوالے سے مزید تباہی کی اجازت نہیں دے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، تاہم اس کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے