ایران مذاکرات کے لیے تیار، مگر دباؤ یا یکطرفہ مطالبات قبول نہیں: ابراہیم عزیز

0
ایران مذاکرات کے لیے تیار، مگر دباؤ یا یکطرفہ مطالبات قبول نہیں: ابراہیم عزیز

ایران مذاکرات کے لیے تیار، مگر دباؤ یا یکطرفہ مطالبات قبول نہیں: ابراہیم عزیز

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ ایران United States کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے، تاہم اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ سامنے والے کی ہر بات تسلیم کرے گا۔

الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران نہ کبھی مذاکرات سے خوفزدہ ہوا ہے اور نہ ہی پیچھے ہٹا ہے، بلکہ ہر قسم کی بات چیت میں صرف قومی مفاد کو مدنظر رکھا جائے گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے اپنی حدود مقرر کر رکھی ہیں، جن کا احترام ضروری ہے، اور تمام فیصلے ملک اور عوام کے بہترین مفاد میں کیے جائیں گے۔

اسلام آباد وفد بھیجنے سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ یہ اس بات پر منحصر ہے کہ آیا امریکا کی جانب سے مثبت اشارے ملتے ہیں یا نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ایک دو روز میں مزید جائزے کے بعد مذاکرات کے امکانات پر غور کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ امریکی ٹیم ایران کے پیغامات کا مثبت جواب دے۔ ان کے مطابق اگر امریکا دباؤ ڈالنے کی پالیسی جاری رکھتا ہے اور غیر ضروری مطالبات کرتا ہے تو ایسے مذاکرات قابل قبول نہیں ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے