ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات اور “جلد جنگ ختم ہونے” کے بیانات دہرانا جاری، کشیدگی برقرار
ٹرمپ کا ایران سے مذاکرات اور “جلد جنگ ختم ہونے” کے بیانات دہرانا جاری، کشیدگی برقرار
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یہ مؤقف دہرایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ تنازع جلد مذاکرات کے ذریعے ختم ہو سکتا ہے، تاہم ساتھ ہی انہوں نے سخت مؤقف بھی اپنایا ہے۔
امریکی نشریاتی اداروں کے مطابق 9 مارچ سے اب تک ڈونلڈ ٹرمپ مختلف انٹرویوز اور بیانات میں یہ بات بار بار کہہ چکے ہیں کہ “جنگ جلد ختم ہو جائے گی” اور “معاہدہ قریب ہے”، جس کے باعث ان کے بیانات کو مسلسل رپورٹ کیا جا رہا ہے۔
تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ ایران اگر مذاکرات نہیں کرتا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ امریکا ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔
اس سے قبل بھی سابق امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ جلد بازی میں کسی “خراب معاہدے” کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی ٹیم کے کچھ اعلیٰ نمائندے سفارتی رابطوں کے لیے متحرک ہیں، جبکہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے مختلف اقدامات بھی زیر غور ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے بیانات ایک طرف مذاکرات کی امید ظاہر کرتے ہیں تو دوسری طرف سخت مؤقف کشیدگی کو برقرار رکھتا ہے، جس سے صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔