آبنائے ہرمز کی بندش سے 6 تا 12 ماہ میں عالمی غذائی بحران کا خدشہ، ایف اے او کی وارننگ

0
آبنائے ہرمز کی بندش سے 6 تا 12 ماہ میں عالمی غذائی بحران کا خدشہ، ایف اے او کی وارننگ

آبنائے ہرمز کی بندش سے 6 تا 12 ماہ میں عالمی غذائی بحران کا خدشہ، ایف اے او کی وارننگ

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)Food and Agriculture Organization یف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی مسلسل بندش آنے والے مہینوں میں دنیا کو شدید خوراکی بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ ادارے کے مطابق اس اہم بحری راستے سے عالمی تیل ترسیل کا تقریباً 20 فیصد اور کھاد کی سپلائی کا ایک تہائی حصہ گزرتا ہے، تاہم ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد یہ گزرگاہ مؤثر طور پر بند ہو چکی ہے۔

ایف اے او نے کہا ہے کہ اس صورتحال سے خاص طور پر گرمیوں کی فصلوں کے لیے کھاد کی شدید قلت پیدا ہونے کا خطرہ ہے، جس کے نتیجے میں زرعی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ ادارے نے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ متبادل زمینی اور بحری راستے استعمال کریں، خصوصاً جزیرہ نما عرب سے بحیرہ احمر تک رسائی بڑھائی جائے۔

ایف اے او کے چیف اکنامسٹ Máximo Torero کے مطابق یہ صرف عارضی رکاوٹ نہیں بلکہ عالمی زرعی و غذائی نظام کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، جس کے اثرات مرحلہ وار سامنے آئیں گے۔ ان مراحل میں توانائی کی قلت، کھاد اور بیجوں کی کمی، زرعی پیداوار میں کمی، اجناس کی قیمتوں میں اضافہ اور بالآخر خوراک کی شدید مہنگائی شامل ہیں۔

ادارے نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال برقرار رہی تو آئندہ 6 سے 12 ماہ میں مکمل عالمی خوراکی بحران جنم لے سکتا ہے، جبکہ عالمی فوڈ پرائس انڈیکس پہلے ہی مسلسل تین ماہ سے اضافے کی جانب گامزن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے