الٹرا پروسیسڈ غذائیں ڈیمینشیا کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں، نئی تحقیق
الٹرا پروسیسڈ غذائیں ڈیمینشیا کے خطرات میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہیں، نئی تحقیق
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)
Harvard T.H. Chan School of Public Health کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ زیادہ مقدار میں الٹرا پروسیسڈ غذائیں کھانے سے ڈیمینشیا اور ذہنی کمزوری کے خطرات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔
محققین کے مطابق روزانہ ایک کلوگرام سے زائد الٹرا پروسیسڈ غذائیں استعمال کرنے والے افراد میں Dementia کا خطرہ 58 فیصد جبکہ ذہنی کمزوری کا خطرہ 46 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈیمینشیا ایک ایسی دائمی بیماری ہے جو یادداشت، شخصیت اور رویّے کو متاثر کرتی ہے اور اس کے اثرات نہ صرف مریض بلکہ اس کے اہلِ خانہ پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ اس وقت امریکا میں 72 لاکھ سے زائد افراد Alzheimer’s disease کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
Alzheimer’s Association کے مطابق 2050 تک الزائمرز کے مریضوں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں میں الٹرا پروسیسڈ غذاؤں کا استعمال تیزی سے بڑھا ہے۔ National Institutes of Health کے اعداد و شمار کے مطابق امریکی خوراک کا تقریباً 70 فیصد حصہ اب الٹرا پروسیسڈ غذاؤں پر مشتمل ہے۔
دوسری جانب University of Kansas کے محققین کا کہنا ہے کہ ان مصنوعات کو نمک، چکنائی اور شکر کے مخصوص امتزاج کے ذریعے حد سے زیادہ لذیذ بنایا جاتا ہے تاکہ صارفین انہیں بار بار استعمال کریں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ تحقیق مستقبل میں ڈیمینشیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سمجھنے اور اس کی روک تھام کے لیے مؤثر حکمت عملی مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔