پیفلا کا مطالبہ: ملک میں تیز اور بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کیا جائے، فری لانسرز کو مشکلات کا سامنا
پیفلا کا مطالبہ: ملک میں تیز اور بلا تعطل انٹرنیٹ فراہم کیا جائے، فری لانسرز کو مشکلات کا سامنا
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پیفلا) نے حکومت اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں تیز رفتار اور بلا تعطل انٹرنیٹ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ڈیجیٹل معیشت اور خاص طور پر فری لانسنگ سے وابستہ افراد کا کام متاثر نہ ہو۔
پیفلا کے چیئرمین ابراہیم امین کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ کی مسلسل سست روی اور بار بار کی بندش فری لانسرز کے لیے سنگین مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فری لانسرز نہ صرف اپنا روزگار کماتے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجلی کی بار بار بندش اور غیر مستحکم انٹرنیٹ سروس کے باعث متعدد فری لانسرز اپنے پراجیکٹس وقت پر مکمل نہیں کر پا رہے، جس سے ان کی بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ریٹنگ متاثر ہو رہی ہے اور پیشہ ورانہ ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
پیفلا نے یہ بھی نشاندہی کی کہ صرف فری لانسرز ہی نہیں بلکہ رائیڈ سروسز، فوڈ ڈلیوری اور دیگر آن لائن پلیٹ فارمز سے وابستہ ہزاروں نوجوان بھی سست انٹرنیٹ کے باعث متاثر ہو رہے ہیں، جس کا براہ راست اثر ان کی روزانہ آمدنی پر پڑ رہا ہے۔
اس حوالے سے ایک بڑی انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنی کی جانب سے سب میرین کیبل کی ایک ہفتے طویل مینٹیننس کا اعلان بھی کیا گیا تھا، جس کے باعث ملک بھر میں انٹرنیٹ کی رفتار متاثر ہوئی۔
پیفلا نے تجویز دی ہے کہ حکومت سیٹلائٹ پر مبنی انٹرنیٹ سروسز کو متبادل کے طور پر متعارف کرائے تاکہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچا جا سکے اور ملک میں قابلِ اعتماد کنیکٹیوٹی یقینی بنائی جا سکے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق پاکستان میں 23 لاکھ سے زائد افراد فری لانسنگ کے ذریعے روزگار حاصل کر رہے ہیں۔