ہدایت کار نے 50 لوگوں کے سامنے مجھ پر چیخنا شروع کر دیا، میں رو پڑی تھی: عصمت زیدی نے تلخ واقعہ سنا دیا

0
ہدایت کار نے 50 لوگوں کے سامنے مجھ پر چیخنا شروع کر دیا، میں رو پڑی تھی: عصمت زیدی نے تلخ واقعہ سنا دیا

ہدایت کار نے 50 لوگوں کے سامنے مجھ پر چیخنا شروع کر دیا، میں رو پڑی تھی: عصمت زیدی نے تلخ واقعہ سنا دیا

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)پاکستان شوبز انڈسٹری کی سینئر اداکارہ عصمت زیدی نے ڈرامہ انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی غیر پیشہ ورانہ روش، سیٹس کے بگڑتے ماحول اور سینئر فنکاروں کے ساتھ روا رکھے جانے والے ناروا سلوک پر کھل کر گفتگو کی ہے۔

ایک نجی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عصمت زیدی نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈراموں کے سیٹس پر کام کا نظام اب تباہ کن ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہاں اداکاروں سے 12 گھنٹے یا اس سے بھی زائد وقت کی شفٹیں کروائی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود فنکاروں کو یہ تک نہیں بتایا جاتا کہ ان کا سین کب شوٹ کیا جائے گا۔

اداکارہ نے انڈسٹری کے نئے اسٹارز کے رویے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اکثر مرکزی کردار ادا کرنے والے فنکار اپنی مرضی سے شوٹ منسوخ کر دیتے ہیں، مگر پروڈکشن کی جانب سے دیگر فنکاروں کی دستیابی یا ان کی مصروفیات کے بارے میں پوچھنے کی زحمت تک نہیں کی جاتی۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اب پورے سیٹ اور دیگر اداکاروں کو ان نئے اسٹارز کی مرضی اور اشاروں کے مطابق چلنا پڑتا ہے۔

اپنے ساتھ پیش آنے والا ایک تلخ واقعہ شیئر کرتے ہوئے عصمت زیدی نے بتایا کہ ایک بار جب انہوں نے سیٹ پر ہونے والے غیر پیشہ ورانہ رویے کے خلاف آواز اٹھائی، تو ایک ہدایت کار نے 50 لوگوں کی موجودگی میں ان پر چیخنا چلانا شروع کر دیا۔ انہوں نے کہا، "میں اس توہین پر تقریباً رو پڑی تھی، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ وہاں موجود کسی ایک شخص نے بھی میرے حق میں آواز نہیں اٹھائی۔”

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر کی شوبز انڈسٹریز میں سینئر فنکاروں کو احترام اور عزت دی جاتی ہے، مگر ہمارے ہاں ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ عصمت زیدی نے واضح کیا کہ اس تمام تر ذہنی تکلیف اور نامناسب ماحول کے باوجود انہوں نے اپنی پروفیشنل ذمہ داری کو مقدم رکھا اور ڈرامے کی شوٹنگ مکمل کروائی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے