کانگریس کے دونوں ایوانوں کی قرارداد منظور، ایران سے متعلق حکومتی پالیسی پر اختلافات نمایاں
کانگریس کے دونوں ایوانوں کی قرارداد منظور، ایران سے متعلق حکومتی پالیسی پر اختلافات نمایاں
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)
واشنگٹن: امریکی کانگریس نے ایک غیر معمولی اقدام کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی ختم کرنے یا مزید کسی کارروائی سے پہلے کانگریس کی منظوری حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس کے بالائی ایوان میں قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور ہوئی، جبکہ چند حکومتی اراکین نے بھی حزبِ اختلاف کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔ اس سے قبل کانگریس کا زیریں ایوان بھی اسی نوعیت کی قرارداد منظور کر چکا ہے۔
اگرچہ یہ قرارداد قانونی طور پر لازمی نہیں اور صدر کی منظوری کے لیے بھی پیش نہیں کی جائے گی، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق یہ حکومتی پالیسی پر بڑھتے ہوئے اختلافات کا واضح اشارہ ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ تنازع پانچویں ماہ میں داخل ہو چکا ہے اور مجوزہ امن معاہدے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ متعدد حکومتی اراکین نے بھی اس منصوبے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام کی علامتی اہمیت ضرور ہے، تاہم قانونی حیثیت نہ ہونے کے باعث اس سے صدر کے اختیارات پر عملی طور پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔