نیویارک میں ایران، امریکا کے درمیان سفارتی رابطے تیز، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر بات چیت
نیویارک میں ایران، امریکا کے درمیان سفارتی رابطے تیز، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر بات چیت
تیزنیویارک (ذیشان شمسی)
نیویارک میں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی رابطے
ہوگئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر نے ایرانی حکام اور ثالثوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکی اور ایرانی فریقوں کے درمیان رابطہ تقریباً تین گھنٹے جاری رہا اور یہ ملاقات ’’بہت اچھی اور نتیجہ خیز‘‘ رہی۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان ایک اور ملاقات جلد متوقع ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران نے قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن سے رابطہ کیا ہے۔ اسٹیو وٹکوف نے بھی تصدیق کی کہ دونوں ممالک کے درمیان ثالثوں کے ذریعے طویل بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔
رائٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ وٹکوف کے اصرار پر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان سے ملاقات کی۔ ایرانی حکام نے جنگ کے تمام محاذوں پر خاتمے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے، اقتصادی پابندیاں اٹھانے اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثے بحال کرنے کو اپنی شرائط میں شامل کیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق تہران آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے پر بھی بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے امریکی فوجی دباؤ میں کمی اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ ضروری ہوگا۔
اس سے قبل ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ امریکی فوجی دباؤ کم ہونے اور بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایران ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھول سکتا ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی کہا تھا کہ صدر ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ایرانی وفد سے ملاقات کے لیے تیار ہیں۔