عسکری قیادت کی بڑی بیٹھک،،، ایران کاسعودی عرب پرحملہ غیر ضروری اشتعال انگیزی قرار،، کشیدگی کو مذاکرات کے زریعے حل کیا جائے ،، کورکمانڈرزکانفرنس
راولپنڈی ( پاکستانی نیوز ) کور کمانڈرز کانفرنس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے حکومت کی بھرپور سفارتی کوششوں کو سراہاہے اور تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا اور اصولی سفارتکاری اور تعمیری روابط کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیاہے۔منگل کو آئی ایس پی آرسے جاری بیان کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیرنے جنرل ہیڈکوارٹرز میں 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت کی۔فورم نے مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ان معصوم شہریوں کے شہداء کے لئے فاتحہ خوانی کی جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ان کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کی میراث پاکستان کی قومی سلامتی کی بنیاد ہے۔
چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ وارانہ مہارت، عملی کارکردگی اور ملکی دفاع کے لئے غیر متزلزل عزم، نیز مسلسل انٹیلی جنس پر مبنی انسداد دہشت گردی کارروائیوں کو سراہا۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ حکومت، مسلح افواج اور عوام کے باہمی اشتراک سے پاکستان سکیورٹی کامیابیوں کو مستحکم، معاشی استحکام کو مضبوط اور علاقائی و عالمی سطح پر اپنی حیثیت کو مزید بہتر بنا رہا ہے۔فورم نے داخلی و خارجی سکیورٹی صورتحال کا جامع جائزہ لیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستوں کی ایماء پرسرگرم تمام دہشت گرد عناصر، ان کے سہولت کاروں اور معاونین کو بلا امتیاز اور مسلسل کارروائی کے ذریعے ختم کیا جائے گا۔
آپریشن "غضبُ اللِّحق” کی رفتار کو برقرار رکھا جائے گا یہاں تک کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ ہو اور افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال فیصلہ کن طور پر بند کر دیا جائے۔فورم نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لئے حکومت کی بھرپور سفارتی کوششوں کو سراہا اور تحمل، مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور ساتھ ہی اصولی سفارتکاری اور تعمیری روابط کے لئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ فورم نے ایک ذمہ دار علاقائی فریق کے طور پر پاکستان کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو امن اور استحکام کے فروغ میں فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
فورم نے سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی کمپلیکس پر حالیہ حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور انہیں غیر ضروری اشتعال انگیزی قرار دیا جو پرامن حل کی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ فورم نے اس بات کو سراہا کہ شدید اشتعال انگیزیوں کے باوجود سعودی عرب نے اب تک تحمل اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا جس سے سفارتی حل کی راہ ہموار ہوئی، تاہم اس طرح کی بلاجواز جارحیت جاری امن عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائی جانے والی غلط معلومات، بے بنیاد الزامات اور فالس فلیگ بیانیے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حربے عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔