امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران کتنی دیر مزاحمت کر سکتا ہے؟ ماہرین کی رائے سامنے آ گئی
امریکی ناکہ بندی کے باوجود ایران کتنی دیر مزاحمت کر سکتا ہے؟ ماہرین کی رائے سامنے آ گئی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں ممکنہ ناکہ بندی کے بعد ماہرین نے ایران کی معاشی و عسکری صلاحیتوں پر تجزیہ پیش کیا ہے۔
امریکی صدر Donald Trump کی جانب سے ایران کی معیشت کے تباہ ہونے کے دعوؤں کے باوجود ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس ایسے وسائل موجود ہیں جن کی بنیاد پر وہ امریکی بحری دباؤ کا کچھ عرصہ تک مقابلہ کر سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق 13 اپریل سے ایران کی بعض بندرگاہوں پر دباؤ اور سمندر میں جہازوں کی روک تھام کے بعد تہران نے اسے غیر قانونی اقدام قرار دیا، جبکہ جواب میں ایران نے بھی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بعض غیر ملکی جہازوں پر اقدامات کیے۔
ماہرین کے مطابق ایران کی معیشت کو تیل کی برآمدات سے بڑا سہارا حاصل ہے، اور حالیہ مہینوں میں اس کی تیل آمدنی میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے، جو اندازاً 4.9 ارب ڈالر سے زائد تک پہنچ گئی۔ ایران روزانہ تقریباً 1.7 سے 1.8 ملین بیرل تیل برآمد کر رہا ہے، جس سے اسے عالمی منڈی میں قیمتوں کے باعث مالی فائدہ حاصل ہو رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس وقت مختلف آئل ٹینکرز میں تقریباً 160 سے 180 ملین بیرل تیل موجود ہے، جو فوری طور پر عالمی منڈی تک پہنچنے کا منتظر ہے، اور یہ ایران کے لیے قلیل مدتی مالی سہارا فراہم کر سکتا ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ امریکا کے لیے اس طرح کی ناکہ بندی کو طویل مدت تک جاری رکھنا سیاسی اور قانونی طور پر بھی مشکل ہو سکتا ہے، جبکہ عالمی سطح پر خاص طور پر چین جیسے ممالک کی جانب سے دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
عسکری پہلو سے ایران کی جانب سے غیر روایتی حکمت عملی، سائبر کارروائیوں اور علاقائی اتحادی گروپوں کے ذریعے ردعمل دینے کی صلاحیت کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیا جا رہا ہے۔
مجموعی طور پر ماہرین کا خیال ہے کہ ایران فوری طور پر شدید معاشی دباؤ کا شکار تو ہو سکتا ہے، لیکن جلد مکمل طور پر جھکنے کا امکان کم ہے، اور یہ صورتحال طویل کشمکش کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔