آبنائے ہرمز میں کشیدگی: سینٹکام اور ایران کے متضاد دعوے، عالمی تیل ترسیل متاثر
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی فوج کے ان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا کا ایک جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں میزائل حملے کا نشانہ بنا اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
سینٹکام نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ کا کوئی بھی جہاز نشانہ نہیں بنا اور تمام جنگی جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج “پروجیکٹ فریڈم” کے تحت خطے میں تعینات ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور اس اہم سمندری گزرگاہ کو فعال رکھنا ہے۔
یہ آپریشن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ ایک نیا بحری اقدام بتایا جا رہا ہے، جس کے تحت امریکا ان بحری جہازوں کو نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران کی مبینہ ناکہ بندی کے باعث رکے ہوئے ہیں۔
سینٹکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو بحفاظت آبنائے ہرمز سے گزار دیا گیا ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ گھنٹوں میں کوئی بھی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکر اس راستے سے نہیں گزرا۔ تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے امریکی بیانات کو بے بنیاد اور جھوٹ قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ موجودہ کشیدگی اور ممکنہ بندش کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔