خراب ورک لائف بیلنس موٹاپے کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، نئی تحقیق

0
خراب ورک لائف بیلنس موٹاپے کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، نئی تحقیق

خراب ورک لائف بیلنس موٹاپے کے خطرے میں اضافہ کر سکتا ہے، نئی تحقیق

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خراب ورک لائف بیلنس نہ صرف وزن کم کرنے کی کوششوں کو متاثر کرتا ہے بلکہ زیادہ دیر تک کام کرنے والے افراد میں موٹاپے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق دفتر میں طویل وقت گزارنے کے باعث ورزش اور جسمانی سرگرمیوں کیلئے وقت کم رہ جاتا ہے، جبکہ ذہنی دباؤ بڑھنے سے لوگ زیادہ کھانا کھانے لگتے ہیں۔ اس دوران جسم میں کورٹیسول ہارمون کی سطح بھی بڑھ جاتی ہے جو وزن میں اضافے سے جڑی ہوئی ہے۔

تحقیق کی سربراہ مصنفہ Pradipha Koreel-Gedara نے کہا کہ جب لوگوں کی زندگی میں توازن ہوتا ہے تو ان کی مجموعی صحت بہتر رہتی ہے۔ ایسے افراد کم ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، بہتر غذا کا انتخاب کرتے ہیں اور جسمانی سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لیتے ہیں۔

یہ تحقیق European Congress on Obesity 2026 میں پیش کی گئی، جس میں 1990 سے 2022 تک برطانیہ سمیت 33 OECD ممالک میں کام کے اوقات اور موٹاپے کی شرح کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں سامنے آیا کہ United States، Mexico اور Colombia جیسے ممالک، جہاں سالانہ کام کے اوقات زیادہ ہیں، وہاں موٹاپے کی شرح بھی بلند دیکھی گئی۔

محققین کے مطابق اگر سالانہ کام کے اوقات میں صرف ایک فیصد کمی کی جائے تو موٹاپے کی شرح میں اوسطاً 0.16 فیصد کمی ممکن ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھوڑا کم کام اور زیادہ ذاتی وقت صحت پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے