ٹرمپ اور ایلون مسک کے تعلقات میں دوبارہ بہتری، 100 ملین ڈالر کی سیاسی مدد کا امکان

0
ٹرمپ اور ایلون مسک کے تعلقات میں دوبارہ بہتری، 100 ملین ڈالر کی سیاسی مدد کا امکان

ٹرمپ اور ایلون مسک کے تعلقات میں دوبارہ بہتری، 100 ملین ڈالر کی سیاسی مدد کا امکان

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے درمیان شدید سیاسی اور ذاتی اختلافات کے بعد ایک بار پھر تعلقات میں بہتری کے آثار سامنے آنے لگے ہیں۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اور مسک اب تقریباً ہر ماہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں، جبکہ مسک نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے لیے کم از کم 100 ملین ڈالر خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق مئی میں ایلون مسک کا ٹرمپ کے ہمراہ سرکاری طیارے میں چین کا سفر تعلقات میں بہتری کی اہم علامت تھا۔ دورانِ سفر مسک نے امریکا میں نئی فیکٹریاں قائم کرنے کے منصوبوں پر ٹرمپ سے گفتگو کی، جبکہ دونوں کے درمیان خلائی پروگرام اور مسک کے بیٹے سے متعلق امور پر بھی بات چیت ہوئی۔

100 ملین ڈالر کی سیاسی مہم
رپورٹس کے مطابق مسک وسط مدتی انتخابات کے دوران ٹرمپ کی حمایت کرنے والے سیاسی گروپ کو کم از کم 100 ملین ڈالر دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ رقم اہم ریاستوں میں ریپبلکن ووٹرز کو متحرک کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔

تاہم ٹرمپ اپنے قریبی ساتھیوں سے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ نہیں سمجھتے کہ مسک کے ساتھ ان کے تعلقات دوبارہ پہلے جیسی قربت اختیار کرسکیں گے۔

دوسری جانب مسک نے بھی 2024ء کے انتخابات جیسا نمایاں سیاسی کردار ادا کرنے سے گریز کا عندیہ دیا ہے۔ وہ ماضی میں اعتراف کرچکے ہیں کہ سیاست میں ان کی شمولیت ضرورت سے زیادہ ہوگئی تھی۔

یوں دونوں کے درمیان پرانی سیاسی شراکت مکمل طور پر بحال ہونے کے بجائے ایک نئے مفاہمتی مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے، جہاں ذاتی قربت کے بجائے سیاسی مفادات اور باہمی ضرورت زیادہ اہم نظر آتی ہے۔

اختلافات کیسے شروع ہوئے؟
2024ء کے صدارتی انتخابات کے دوران ایلون مسک ٹرمپ کے بڑے حامی بن گئے تھے اور انہوں نے ٹرمپ کی انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے تقریباً 300 ملین ڈالر خرچ کیے تھے۔

ٹرمپ کے دوبارہ صدر بننے کے بعد مسک نے وائٹ ہاؤس میں بھی اہم کردار ادا کیا، تاہم مختلف حکومتی اداروں میں ان کے جارحانہ انداز اور مداخلت پر انتظامیہ کے بعض اعلیٰ حکام ناراض ہوئے۔

جون میں دونوں کے اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔ مسک نے سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے خلاف سخت بیانات دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ صدر کا نام جیفری ایپسٹین سے متعلق تحقیقاتی فائلوں میں شامل ہے اور اسی وجہ سے یہ فائلیں منظر عام پر نہیں لائی جارہیں۔

ٹرمپ نے جواباً مسک کے سرکاری معاہدے ختم کرنے کی دھمکی دی اور الزام عائد کیا کہ مسک ایک بڑے ٹیکس اور اخراجات کے قانون کی مخالفت اس لیے کررہے ہیں کیونکہ اس میں برقی گاڑیوں کے لیے مراعات ختم کرنے کی شقیں شامل ہیں۔

حالیہ رابطوں اور سیاسی تعاون کے اشاروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں شخصیات کے درمیان کشیدگی میں کمی آئی ہے، تاہم ماضی جیسی ذاتی قربت کی واپسی تاحال یقینی نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے