پاکستان میں خواتین کی برابری کی جدوجہد میں ڈیجیٹل تقسیم: ایک بڑا چیلنج
پاکستان میں خواتین کی برابری کی جدوجہد میں ڈیجیٹل تقسیم: ایک بڑی رکاوٹ
تحریر: محمد بلال
پاکستان میں خواتین کے حقوق اور برابری کی جدوجہد کوئی نئی بات نہیں، مگر اس راستے میں ایک جدید اور کم زیرِ بحث رکاوٹ “ڈیجیٹل تقسیم” (Digital Divide) کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ یہ تقسیم نہ صرف خواتین کو معلومات، تعلیم اور اظہارِ رائے سے محروم کرتی ہے بلکہ ان کی سماجی اور قانونی حیثیت کو بھی کمزور بناتی ہے۔
مریم جمالی، جو بلوچستان اور سندھ میں ترقیاتی کام کرنے والی تنظیم “مدد بلوچستان” سے وابستہ ہیں، ایک افسوسناک واقعہ بیان کرتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کی ایک عزیزہ کو محض اس شبہ میں قتل کر دیا گیا کہ وہ کسی غیر مرد سے بات کر رہی تھی۔ اس واقعے پر نہ میڈیا میں آواز اٹھی، نہ سوشل میڈیا پر کوئی مہم چلی۔ اگر متاثرہ خاتون یا اس کے خاندان کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل ہوتی تو شاید انصاف کے لیے آواز بلند کی جا سکتی تھی۔
پاکستان، جو دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، وہاں انٹرنیٹ تک رسائی میں واضح صنفی فرق موجود ہے۔ جہاں تقریباً 47 فیصد مرد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، وہیں خواتین کی یہ شرح صرف 26 فیصد ہے۔ اسی طرح موبائل فون کی ملکیت میں بھی بڑا فرق ہے: 81 فیصد مردوں کے مقابلے میں صرف 50 فیصد خواتین کے پاس موبائل فون ہے۔ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے جہاں صرف 7 فیصد خواتین انٹرنیٹ تک رسائی رکھتی ہیں۔
یہ مسئلہ بچپن سے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ کئی گھروں میں لڑکیوں کی تعلیم کو ثانوی حیثیت دی جاتی ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق ایک بچی کو صرف اس لیے اپنی آن لائن کلاس چھوڑنی پڑی کہ اس کے بھائی ویڈیو گیم کھیلنا چاہتے تھے۔ یہ واقعہ اس ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے جہاں لڑکیوں کی تعلیم اور ڈیجیٹل رسائی کو اہم نہیں سمجھا جاتا۔
جب خواتین کو انٹرنیٹ تک محدود رسائی دی جاتی ہے تو وہ نہ صرف معلومات سے محروم رہتی ہیں بلکہ آن لائن خطرات جیسے ہراسانی اور غلط معلومات کا بھی آسان شکار بن جاتی ہیں۔ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 40 فیصد خواتین کسی نہ کسی شکل میں آن لائن ہراسانی کا سامنا کر چکی ہیں۔ بدقسمتی سے، ان خطرات کو بنیاد بنا کر خواتین کی رسائی مزید محدود کر دی جاتی ہے، بجائے اس کے کہ انہیں محفوظ طریقے سے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تربیت دی جائے۔
معاشرتی طور پر “اخلاقیات” کا جواز پیش کر کے خواتین کی آزادی کو محدود کیا جاتا ہے۔ ٹک ٹاک جیسی ایپس کو غیر اخلاقی قرار دے کر خواتین کو ان سے دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہی پلیٹ فارمز اظہارِ رائے اور آگاہی کے لیے مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اگرچہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ کے لیے قوانین موجود ہیں، مگر ان پر عملدرآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ انصاف تک رسائی محدود ہے، اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک عدم رسائی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت، نجی ادارے اور سول سوسائٹی مل کر اس ڈیجیٹل خلیج کو ختم کریں۔ خواتین کو نہ صرف انٹرنیٹ تک رسائی دی جائے بلکہ انہیں ڈیجیٹل خواندگی، آن لائن تحفظ، اور اظہارِ رائے کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں۔ کیونکہ جب تک خواتین کو ڈیجیٹل دنیا میں برابر کا مقام نہیں ملے گا، حقیقی معنوں میں برابری کا خواب ادھورا ہی رہے گا۔