پاکستانی ٹیلنٹ سے متاثر، ڈیوڈ وارنر کی نظریں کراچی کنگز کو فائنل تک لے جانے پر
پاکستانی ٹیلنٹ سے متاثر، ڈیوڈ وارنر کی نظریں کراچی کنگز کو فائنل تک لے جانے پر
کراچی کنگز کے کپتان ڈیوڈ وارنر نے پاکستان کے کرکٹ ٹیلنٹ کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ یہاں خاص طور پر فاسٹ بولنگ کا معیار بےحد شاندار ہے۔
ڈیوڈ وارنر کا کہنا تھا کہ وہ دنیا کی مختلف لیگز کا موازنہ نہیں کرتے کیونکہ ہر لیگ اپنی جگہ منفرد ہوتی ہے، تاہم پاکستان میں 140 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بولنگ کرنے والے کھلاڑیوں کی تعداد متاثر کن ہے۔
اپنے پسندیدہ لیفٹ ہینڈ بیٹرز کے حوالے سے انہوں نے فخر زمان اور صائم ایوب کا نام لیا اور کہا کہ یہ دونوں پل شاٹ کھیلنے میں مہارت رکھتے ہیں اور کسی حد تک ان کے اپنے کھیل سے مشابہت رکھتے ہیں۔
بولرز کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے وارنر نے شاہین شاہ آفریدی کو ایک خطرناک پیسر قرار دیا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے بولرز حسن علی، میر حمزہ اور عباس آفریدی کی کارکردگی کو بھی سراہا۔
انہوں نے سلمان علی آغا کو ایک سمجھدار اور مددگار کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا تجربہ ٹیم کے لیے ایک بڑا فائدہ ہے۔
ٹیم کی کارکردگی پر بات کرتے ہوئے وارنر نے کہا کہ ہر ٹورنامنٹ میں ہدف فائنل تک پہنچنا ہوتا ہے۔ لاہور قلندرز کے خلاف میچ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ کم ہدف کا تعاقب کرتے وقت وہ کچھ نروس تھے، تاہم ٹیم نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کیا اور کامیابی حاصل کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی میچز میں اسپنرز نے درمیانی اوورز میں شاندار کارکردگی دکھا کر میچ کا رخ تبدیل کیا۔
پاکستانی کھانوں کے حوالے سے وارنر نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک مقامی کھانے نہیں چکھے لیکن اپنے دوست عثمان خواجہ کے ساتھ ضرور آزمانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
نوجوان کھلاڑیوں میں سعد بیگ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وارنر نے کہا کہ ان میں کچھ کر دکھانے کا جذبہ نمایاں ہے اور وہ پہلے سے زیادہ مثبت نظر آئے۔
تماشائیوں کی عدم موجودگی پر بات کرتے ہوئے وارنر نے کہا کہ شائقین کی موجودگی کھیل میں الگ توانائی لاتی ہے اور امید ہے کہ وہ جلد اسٹیڈیمز میں واپس آئیں گے۔