آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول سسٹم، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
آبنائے ہرمز پر ایران کا نیا ٹول سسٹم، خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر ایران نے نئے کنٹرول نظام کے تحت ٹول فیس عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جسے عالمی سطح پر ایک اہم اور حساس پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی پارلیمانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے روسی میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تمام جہازوں کو فیس ادا کرنا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قومی مفادات کے پیش نظر اس گزرگاہ پر مکمل کنٹرول اور مؤثر انتظام یقینی بنائے گی، جبکہ انہوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کیا۔
دوسری جانب ایران کے نائب وزیر تیل محمد صادق نے بتایا کہ حالیہ حملوں سے متاثرہ آئل ریفائننگ صلاحیت کی بحالی پر کام جاری ہے۔ ان کے مطابق آئندہ دو ماہ میں 70 سے 80 فیصد پیداواری صلاحیت بحال ہونے کی توقع ہے، جبکہ لاوان ریفائنری کا کچھ حصہ آئندہ 10 دنوں میں دوبارہ فعال ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی نئی پالیسی یا پابندی کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گئے ہیں۔ تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں ایٹمی پروگرام سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔
28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی کشیدگی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہو گئی تھی، جس کے بعد 8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی طے پائی۔ تاہم جنگ بندی کے باوجود خطے میں جھڑپیں جاری ہیں اور صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔
حکام کے مطابق مستقبل میں حالات کا دارومدار آئندہ سفارتی کوششوں اور ممکنہ مذاکرات پر ہوگا، جبکہ ماہرین خطے میں مزید کشیدگی کے خدشات ظاہر کر رہے ہیں۔