پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار، ریگولیٹری فریم ورک آخری مراحل میں
پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی راہ ہموار، ریگولیٹری فریم ورک آخری مراحل میں
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے، جہاں متعلقہ ریگولیٹری فریم ورک تیاری کے آخری مراحل میں داخل ہو گیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ فریم ورک قومی سلامتی، اسپیکٹرم مینجمنٹ اور سکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا جا رہا ہے تاکہ ملک بھر میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کا محفوظ اور مؤثر نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستان اسپیس ایکٹیویٹیز ریگولیٹری بورڈ کی جانب سے سیٹلائٹ کمیونیکیشن کے مسودہ قواعد تیار کر لیے گئے ہیں، جو اس وقت حتمی مشاورت کے مرحلے میں ہیں۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے پارلیمان کو بتایا کہ یہ قواعد جلد حتمی شکل اختیار کر لیں گے۔
اسی طرح پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے فکسڈ سیٹلائٹ سروسز (FSS) کے لیے لائسنسنگ فریم ورک بھی تیار کر لیا ہے، جسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔ اس فریم ورک کا مقصد سرمایہ کاری کے لیے شفاف اور سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔
نئے نظام کے تحت براڈ بینڈ سیٹلائٹ انٹرنیٹ، بیک ہال، بینڈوڈتھ اور کارپوریٹ ڈیٹا سروسز جیسی سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جو پاکستان کی ڈیجیٹل حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں۔
اس شعبے میں متعدد بین الاقوامی کمپنیاں، جن میں اسٹارلنک، ون ویب، شنگھائی اسپیس کام اور دیگر شامل ہیں، پاکستان میں خدمات فراہم کرنے میں دلچسپی ظاہر کر چکی ہیں۔ اسٹارلنک پہلے ہی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان میں رجسٹر ہو چکی ہے۔
حکام کے مطابق اسپیکٹرم الاٹمنٹ اور لائسنسنگ کے عمل کو مؤثر بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی رابطہ قائم کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی کے مطابق سیٹلائٹ انٹرنیٹ ملک میں ڈیجیٹل خلیج کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا، خاص طور پر دور دراز اور پسماندہ علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی ممکن ہوگی۔