ایران جنگ اس وقت ختم کرے گا جب میدان میں برتری حاصل ہوگی، عباس عراقچی

0
ایران جنگ اس وقت ختم کرے گا جب میدان میں برتری حاصل ہوگی، عباس عراقچی

ایران جنگ اس وقت ختم کرے گا جب میدان میں برتری حاصل ہوگی، عباس عراقچی

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران امریکا کے ساتھ جنگ اسی وقت ختم کرے گا جب اسے میدانِ جنگ میں برتری حاصل ہو گی، جبکہ مذاکرات کا مؤثر وقت وہی ہوتا ہے جب عسکری محاذ پر قابلِ اعتماد کامیابیاں حاصل کی جا چکی ہوں۔

قطری نشریاتی ادارے کے مطابق سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے انٹرویو میں عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ یا تو مکمل فوجی فتح کے ذریعے ممکن ہے یا پھر مذاکرات کے ذریعے، تاہم کسی بھی فیصلے سے قبل زمینی حقائق اور قومی مفادات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ عوام کی جانوں اور ملک کے مستقبل کو خطرے میں نہیں ڈالا جا سکتا، اس لیے تمام فیصلے مکمل حساب و کتاب اور درست اندازوں کی بنیاد پر کیے جانے چاہئیں۔ ان کے بقول سیاسی قیادت کو مسلسل جائزہ لینا چاہیے کہ جنگ جاری رکھنے سے مزید فوائد حاصل ہوں گے یا اس کے نتیجے میں انسانی جانوں اور قومی مفادات کو زیادہ نقصان پہنچے گا۔

ترک میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کو نہ دھمکی دی جا سکتی ہے اور نہ ہی لالچ دے کر اس کے مؤقف میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران کسی صورت اپنی افزودہ یورینیم فروخت نہیں کرے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق 12 روزہ جنگ سے قبل ایران کو مذاکرات کے ذریعے رعایتیں دینے کی کوشش کی گئی، تاہم جنگ کے باوجود ایران کی پالیسیوں اور اصولوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا ہے اور دنیا کو احساس ہو گیا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران کی اہم تزویراتی طاقت ہے۔

عباس عراقچی نے امریکا پر ایران کی عسکری صلاحیت کا غلط اندازہ لگانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کبھی امریکی دھمکیوں سے نہیں ڈرا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل مختصر حملوں کے ذریعے ایران کو کمزور کرنا چاہتا تھا لیکن اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملے ایران کے اندر سے معلومات افشا ہونے کے باعث ممکن ہوئے اور اس حوالے سے سکیورٹی خلا کا بھی امکان موجود ہے۔ ان کے مطابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای پر حملے کی صورت میں آبنائے ہرمز بند کرنے کا منصوبہ پہلے سے تیار تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کے ساتھ ابتدائی جنگ بندی کی منظوری سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے دی تھی، جبکہ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے یا نہ کرنے کے معاملے پر طویل مشاورت کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے