آٹے کی قیمتیں بے قابو، فی کلو نرخ 180 روپے تک پہنچ گئے
پنجاب میں آٹے کی قیمتیں بے قابو، فی کلو نرخ 180 روپے تک پہنچ گئے
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)پنجاب میں آٹے کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
حکومتی سطح پر گندم کی سرکاری قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی گئی ہے، تاہم اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی کلو قیمت 88 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح نجی کمپنیوں کی جانب سے آٹا 180 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے، جس سے فی من آٹے کی قیمت تقریباً 7200 روپے تک جا پہنچی ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق گندم کی پسائی پر فی من تقریباً 400 سے 500 روپے لاگت آتی ہے، جس کے بعد بنیادی حساب سے آٹے کی قیمت تقریباً 4000 روپے فی من بنتی ہے، تاہم مختلف عوامل اور منافع کی شرح کے باعث قیمتیں اس سے کہیں زیادہ ہو چکی ہیں۔
مقامی سطح پر بعض علاقوں میں آٹا 98 سے 108 روپے فی کلو دستیاب ہے، لیکن اس کے باوجود مختلف مارکیٹوں میں یہ 180 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جس پر صارفین نے حکومت سے فوری نوٹس لینے اور قیمتوں کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔