ایران بحران: مارکو روبیو پس منظر میں، ٹرمپ کے قریبی ساتھی سفارتی محاذ پر سرگرم

0
ایران جنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوں غائب؟ حیران کن رپورٹ سامنے آگئی

ایران جنگ میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوں غائب؟ حیران کن رپورٹ سامنے آگئی

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)برطانوی اخبار Financial Times کی ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio، جو اس وقت قومی سلامتی کے مشیر کی اضافی ذمہ داری بھی سنبھال رہے ہیں، ایران سے متعلق جاری بحران میں غیر معمولی طور پر پس منظر میں دکھائی دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر Donald Trump نے ایران سے متعلق مذاکرات کے لیے اپنے قریبی ساتھیوں، جن میں داماد Jared Kushner اور خصوصی ایلچی Steve Witkoff شامل ہیں، کو پاکستان بھیجا، جبکہ نائب صدر JD Vance بھی اسلام آباد میں سفارتی عمل کی قیادت کرتے رہے۔ اس تمام عمل میں مارکو روبیو کی عدم موجودگی نمایاں رہی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روبیو ممکنہ طور پر ایران جیسے پیچیدہ اور حساس معاملے سے دانستہ فاصلے پر ہیں تاکہ مذاکرات کی ممکنہ ناکامی کی صورت میں سیاسی نقصان سے بچ سکیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ مستقبل میں صدارتی امیدوار بننے کی خواہش رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ روبیو کو ٹرمپ انتظامیہ میں ایک وفادار ساتھی سمجھا جاتا ہے، تاہم اہم خارجہ پالیسی فیصلوں میں ان کا کردار محدود دکھائی دیتا ہے۔ ان کی توجہ زیادہ تر لاطینی امریکا کے معاملات پر مرکوز رہی ہے، جبکہ ایران جیسے بڑے بحران میں دیگر شخصیات کو آگے رکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے ان تاثرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ روبیو ہر اہم قومی سلامتی کے معاملے میں شامل ہوتے ہیں، تاہم رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ میں خارجہ پالیسی کا انداز تبدیل ہو چکا ہے جہاں روایتی سفارت کاری کے بجائے مخصوص ایلچیوں اور محدود حلقے پر زیادہ انحصار کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے