شدید گرمی ذہنی صحت کے لیے بھی خطرہ، ماہرین نے اہم انتباہ جاری کر دیا

0
شدید گرمی ذہنی صحت کے لیے بھی خطرہ، ماہرین نے اہم انتباہ جاری کر دیا

شدید گرمی ذہنی صحت کے لیے بھی خطرہ، ماہرین نے اہم انتباہ جاری کر دیا

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)شدید گرمی کی لہر جہاں جسمانی صحت کو متاثر کر رہی ہے، وہیں ماہرین کے مطابق یہ انسانی ذہنی اور جذباتی کیفیت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بلند درجۂ حرارت کے باعث لوگوں میں چڑچڑاپن، بے چینی، ذہنی دباؤ، تھکن اور نیند کی خرابی جیسے مسائل میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق گرمی کے دوران جسم مسلسل خود کو ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسمانی تھکن اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ پسینہ، حبس، بے آرامی اور نیند کی کمی انسان کے موڈ اور برداشت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔

طبی ماہرین نے بتایا کہ گرمی میں رات کے وقت اچھی نیند نہ آنا بھی ذہنی پریشانی اور اضطراب کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ کئی افراد بار بار جاگتے ہیں یا مکمل نیند نہیں لے پاتے، جس سے ذہنی تھکن، توجہ میں کمی اور بے چینی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پانی کی کمی بھی دماغی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ شدید گرمی یا ہیٹ ویوز کے دوران جسم میں پانی کم ہونے سے سر درد، کمزوری، چڑچڑاپن، دل کی دھڑکن تیز ہونا اور گھبراہٹ جیسی علامات ظاہر ہو سکتی ہیں، جو ذہنی دباؤ کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شدید گرمی کے باعث لوگ گھروں تک محدود ہو جاتے ہیں، جس سے جسمانی سرگرمیاں اور سماجی میل جول کم ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال اداسی، تنہائی اور ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی بے چینی یا ڈپریشن کا شکار ہوں۔

ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ موسم گرما میں زیادہ پانی پیا جائے، ٹھنڈی جگہ پر آرام کیا جائے، کیفین کا کم استعمال کیا جائے اور صبح یا شام کے اوقات میں ہلکی ورزش کو معمول بنایا جائے۔ گہرے سانس لینے کی مشقیں، مراقبہ اور اسکرین ٹائم کم کرنا بھی ذہنی سکون کے لیے مفید قرار دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے