امریکا کے ایران پر بڑے فضائی حملے، تہران کے سخت ردعمل کی دھمکی
امریکا کے ایران پر بڑے فضائی حملے، تہران کے سخت ردعمل کی دھمکی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)
واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران میں 80 سے زائد فوجی اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق یہ کارروائی بحری گزرگاہ میں تین تجارتی جہازوں پر حملوں کے جواب میں کی گئی۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق حملوں میں جزیرہ قشم، خارگ، سیرک اور بندرعباس میں واقع فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنے اقدامات کی قیمت چکانا ہوگی، تاہم فی الحال مزید حملے روک دیے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترکیہ کے دورے کے دوران ایران پر حملوں کی منظوری دی تھی۔
دوسری جانب ایران کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے امریکی کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل اور "تباہ کن جواب” دینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں محفوظ بحری راستے کے تعین کا اختیار تہران کے پاس ہے اور اس معاملے میں امریکی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔
ادھر امریکا نے ایرانی تیل کی فروخت کا عمومی لائسنس بھی منسوخ کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق یہ فیصلہ آبنائے ہرمز میں ایرانی اقدامات کے ردعمل میں کیا گیا، جبکہ پہلے جاری کردہ لائسنس کے تحت 21 اگست تک ایرانی خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دی گئی تھی۔
دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ نے جنوبی لبنان کے متعدد مقامات پر بھی حملے کیے ہیں، تاہم ان حملوں میں جانی نقصان کی فوری طور پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔