دوا کے باوجود بلڈ پریشر کنٹرول کیوں نہیں ہوتا؟ ماہرین نے 5 عام غلطیاں بتا دیں

0
دوا کے باوجود بلڈ پریشر کنٹرول کیوں نہیں ہوتا؟ ماہرین نے 5 عام غلطیاں بتا دیں

دوا کے باوجود بلڈ پریشر کنٹرول کیوں نہیں ہوتا؟ ماہرین نے 5 عام غلطیاں بتا دیں

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر دوا لینے کے باوجود بلڈ پریشر قابو میں نہیں آ رہا تو اس کی وجہ صرف موروثی عوامل یا دوا کی کمی نہیں، بلکہ روزمرہ کی چند عام عادتیں بھی اس مسئلے کو برقرار رکھ سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہائی بلڈ پریشر ایک خاموش بیماری ہے جو دل، دماغ، گردوں اور دیگر اہم اعضا کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے صرف دوا پر انحصار کرنے کے بجائے طرزِ زندگی میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ پیک غذاؤں میں موجود اضافی نمک کو نظر انداز کرنا، پوٹاشیئم سے بھرپور غذاؤں کا کم استعمال، گھر میں بلڈ پریشر غلط طریقے سے چیک کرنا، مسلسل ذہنی دباؤ اور روزانہ ناکافی نیند لینا وہ پانچ عام عوامل ہیں جو بلڈ پریشر کو مسلسل بلند رکھنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

ان کے مطابق ڈبل روٹی، انسٹنٹ نوڈلز، سوپ، اچار اور دیگر تیار شدہ غذاؤں میں نمک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، جبکہ سبز پتوں والی سبزیاں، تازہ پھل اور مکمل اناج پوٹاشیئم فراہم کرتے ہیں، جو بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

ماہرین نے مزید مشورہ دیا کہ بلڈ پریشر چیک کرنے سے قبل کم از کم پانچ منٹ سکون سے بیٹھیں، پیمائش کے دوران درست نشست اختیار کریں اور بات چیت سے گریز کریں تاکہ درست نتائج حاصل ہو سکیں۔

ماہرین کے مطابق متوازن غذا، مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی اور صحت مند طرزِ زندگی اختیار کرنے سے ہائی بلڈ پریشر کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے