مون سون میں کھانے پینے کی احتیاط، ماہرین نے کئی غذاؤں سے خبردار کردیا

0
مون سون میں کھانے پینے کی احتیاط، ماہرین نے کئی غذاؤں سے خبردار کردیا

مون سون میں کھانے پینے کی احتیاط، ماہرین نے کئی غذاؤں سے خبردار کردیا

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)

مون سون کے موسم میں ہوا میں نمی بڑھنے کے باعث بیکٹیریا اور فنگس کی افزائش کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جس کے باعث ماہرین صحت نے کھانے پینے کی اشیا کے استعمال میں خصوصی احتیاط کی ہدایت کی ہے۔

ماہرین کے مطابق گلی محلوں اور ٹھیلوں پر کھلے میں فروخت ہونے والے پھل اور سلاد آلودہ پانی اور فضا میں موجود جراثیم کی زد میں آسکتے ہیں، اس لیے انہیں اچھی طرح دھوئے بغیر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

پتے دار سبزیوں کے پتوں کی تہوں میں نمی کے باعث مٹی، کیڑے اور بیکٹیریا چھپے رہ سکتے ہیں۔ انہیں مناسب طریقے سے صاف کیے بغیر کھانا صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔

مون سون کے دوران سی فوڈ کے استعمال میں بھی احتیاط ضروری ہے۔ آلودہ پانی کے باعث مچھلی اور دیگر سمندری غذاؤں سے فوڈ پوائزننگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

اسی طرح سموسے، پکوڑے اور گول گپوں میں استعمال ہونے والا بار بار گرم کیا گیا تیل یا آلودہ پانی پیٹ کے شدید انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق دودھ، دہی اور پنیر بھی گرمی اور نمی میں جلد خراب ہوسکتے ہیں، جبکہ سڑک کنارے فروخت ہونے والے مشروبات میں غیرمعیاری یا آلودہ برف کے استعمال سے ہیضہ اور ٹائیفائیڈ سمیت مختلف بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مون سون میں آدھا پکا گوشت اور انڈے بھی احتیاط کا تقاضا کرتے ہیں، کیونکہ نامکمل طور پر پکی غذاؤں میں موجود بیکٹیریا فوڈ پوائزننگ کا باعث بن سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے