واٹر کریس سب سے زیادہ غذائیت رکھنے والی سبزی، ماہرین نے اہم فوائد بتا دیے
واٹر کریس سب سے زیادہ غذائیت رکھنے والی سبزی، ماہرین نے اہم فوائد بتا دیے
ماہرین صحت کے مطابق سبز پتوں والی سبزیوں کا استعمال مجموعی صحت کے لیے انتہائی مفید ہے اور سلاد کے لیے اب صرف آئس برگ لیٹش تک محدود رہنے کی ضرورت نہیں۔
رومین، سرخ پتوں والا لیٹش، بٹر لیٹش، چقندر کے پتے، بوک چوائے، ریڈی کیو اور ارگولا سمیت سبز پتوں والی سبزیوں کی کئی اقسام غذائی اجزا سے بھرپور ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر روزانہ تجویز کردہ مقدار میں سبزیاں استعمال کرنے کی کوشش کی جائے تو مختلف اقسام کی سبز پتوں والی سبزیوں کو خوراک کا حصہ بنانا زیادہ فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والی ماہر غذائیت جیمی موک کے مطابق سبزیوں کا انتخاب کرتے وقت غذائی کثافت کو مدنظر رکھنا چاہیے، یعنی کم کیلوریز میں زیادہ غذائی اجزا فراہم کرنے والی سبزیاں زیادہ مفید سمجھی جاتی ہیں۔
2014 میں امریکی مرکز برائے بیماریوں پر قابو پانے اور روک تھام (CDC) کی ایک تحقیق میں واٹر کریس کو غذائی کثافت کے اعتبار سے نمایاں سبزی قرار دیا گیا تھا۔ تحقیق کے مطابق واٹر کریس میں فی کیلوری تقریباً 17 مختلف غذائی اجزا پائے گئے، جو کئی دیگر سبزیوں کے مقابلے میں نمایاں مقدار ہے۔
واٹر کریس میں وٹامن K، وٹامن C، کیلشیم، مینگنیز اور کاپر سمیت متعدد اہم غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، جبکہ اس میں موجود فائٹو کیمیکلز بھی صحت کے لیے مفید سمجھے جاتے ہیں۔
ماہر غذائیت جیمی موک کے مطابق انہوں نے بچپن سے اپنی والدہ کے تیار کردہ چینی سوپ میں واٹر کریس کا استعمال دیکھا اور کھایا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی ایک سبزی کو ہی خوراک کا مرکز بنانے کے بجائے مختلف اقسام کی سبزیوں کو روزمرہ غذا میں شامل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ سبز اور ناپا بند گوبھی سمیت دیگر سبزیوں میں بھی اہم غذائی اجزا موجود ہوتے ہیں، جبکہ گوبھی اور بروکلی میں سلفر پر مشتمل ایسے مرکبات پائے جاتے ہیں جن میں اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سلاد اور سبزیوں میں تنوع برقرار رکھنے سے مختلف وٹامنز، معدنیات اور دیگر مفید نباتاتی مرکبات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔