ٹرمپ–نیتن یاہو سخت رابطہ، لبنان بھی جنگ بندی عمل میں شامل—اسرائیل مذاکرات پر آمادہ

0
ٹرمپ–نیتن یاہو سخت رابطہ، لبنان بھی جنگ بندی عمل میں شامل—اسرائیل مذاکرات پر آمادہ

ٹرمپ–نیتن یاہو سخت رابطہ، لبنان بھی جنگ بندی عمل میں شامل—اسرائیل مذاکرات پر آمادہ

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا کی کوششوں سے جنگ بندی عمل کو وسعت دی جا رہی ہے۔ Donald Trump اور Benjamin Netanyahu کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کو امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے سخت اور دباؤ پر مبنی قرار دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق اس گفتگو کے فوری بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہِ راست جنگ بندی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کر دی۔ امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کو اندازہ ہو گیا تھا کہ اگر وہ مذاکرات پر راضی نہ ہوئے تو ٹرمپ خود ہی جنگ بندی کا اعلان کر سکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکا ایران کے ساتھ دو ہفتے کی جنگ بندی کا اعلان کر چکا ہے، تاہم امریکی مؤقف تھا کہ اسرائیلی حملوں نے اس عمل کو کمزور کیا۔ ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں Hezbollah کے خلاف حملے کم کریں، کیونکہ حالیہ اسرائیلی کارروائیوں میں بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔

ادھر Bloomberg کی رپورٹ کے مطابق لبنان کو اچانک جنگ بندی معاہدے میں شامل کیا گیا، جس سے سفارتی حلقوں میں حیرت پائی گئی۔ تاہم اسرائیل نے فون کال میں کسی قسم کی تلخی کی تردید کرتے ہوئے اسے "فیک نیوز” قرار دیا ہے۔

موجودہ صورتحال میں امریکا خطے میں جنگ بندی کو وسیع کرنے کے لیے سرگرم ہے، جبکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان براہِ راست مذاکرات ایک اہم پیش رفت سمجھے جا رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے