جنگلاتی آگ کا دھواں کینسر کے خطرات بڑھا سکتا ہے، نئی تحقیق میں اہم انکشاف
جنگلاتی آگ کا دھواں کینسر کے خطرات بڑھا سکتا ہے، نئی تحقیق میں اہم انکشاف
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک تازہ سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنگلاتی آگ کے دھوئیں میں سانس لینے سے پھیپھڑوں سمیت کئی اقسام کے کینسر کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جن میں بڑی آنت، چھاتی، مثانہ اور خون کے کینسر شامل ہیں۔
یونیورسٹی آف نیو میکسیکو کمپریہینسو کینسر سینٹر کی محقق شینژین وو کے مطابق جنگلاتی آگ کا دھواں زہریلے اور سرطان پیدا کرنے والے مرکبات پر مشتمل ہوتا ہے، جن میں پولی سائکلک ایرومیٹک ہائیڈرو کاربنز جیسے خطرناک کیمیکل شامل ہیں۔
تحقیق کے مطابق اگرچہ پہلے سے معلوم ہے کہ یہ دھواں پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کے اثرات صرف نظام تنفس تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ خون میں شامل ہو کر پورے جسم میں پھیل سکتے ہیں۔ اس عمل سے مختلف حیاتیاتی نظام متاثر ہوتے ہیں اور کینسر بننے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
محققین کے مطابق دھوئیں کے باعث جسم میں سوزش پیدا ہوتی ہے، جو طویل مدت میں کینسر کے خطرے کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
یہ نتائج AACR Annual Meeting 2026 میں پیش کیے گئے، جہاں ماہرین نے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کے درمیان تعلق پر روشنی ڈالی۔