ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریائی جہاز پر حملے کے الزامات مسترد کر دیے
ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریائی جہاز پر حملے کے الزامات مسترد کر دیے
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایران نے آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے بحری جہاز پر حملے کے الزامات کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
ایرانی سفارت خانہ جنوبی کوریا کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کی مسلح افواج کے اس واقعے میں ملوث ہونے کے تمام دعوے بے بنیاد ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد تہران متعدد بار واضح کر چکا ہے کہ آبنائے ہرمز اس کے دفاعی دائرہ کار کا اہم حصہ ہے، اور اس علاقے سے محفوظ گزرگاہ کے لیے بین الاقوامی قوانین کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
ایرانی سفارت خانے نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ قواعد اور زمینی حقائق کو نظر انداز کیا گیا تو غیر ارادی واقعات پیش آ سکتے ہیں، جن کی ذمے داری ان عناصر پر عائد ہوگی جو احتیاطی تقاضوں کے بغیر اس علاقے میں سرگرم رہیں گے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق پیر کے روز پاناما پرچم بردار ایک کارگو جہاز میں دھماکے اور آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 24 افراد سوار تھے۔
بعد ازاں Donald Trump نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے جہاز پر فائرنگ کی، جبکہ انہوں نے جنوبی کوریا پر زور دیا تھا کہ وہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت بحال کرنے کے لیے امریکی آپریشنز میں شامل ہو۔
اس پر جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ وہ امریکی بحری آپریشن میں شرکت کے معاملے کا جائزہ لے گا، تاہم بعد میں جنوبی کوریا کے قومی سلامتی کے مشیر نے بتایا کہ “پروجیکٹ فریڈم” کی معطلی کے بعد اس جائزے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔