پلمونری ایمبولزم: پھیپھڑوں کی شریانوں میں خون کا لوتھڑا پھنسنے کی بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، طبی ماہرین کا انتباہ

0
پلمونری ایمبولزم: پھیپھڑوں کی شریانوں میں خون کا لوتھڑا پھنسنے کی بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، طبی ماہرین کا انتباہ

پلمونری ایمبولزم: پھیپھڑوں کی شریانوں میں خون کا لوتھڑا پھنسنے کی بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، طبی ماہرین کا انتباہ

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک) طبی ماہرین نے ایک اہم طبی انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ‘پلمونری ایمبولزم’ ایک انتہائی خطرناک اور بعض اوقات جان لیوا بیماری ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب پھیپھڑوں تک خون پہنچانے والی شریانوں میں خون کا کوئی لوتھڑا (Clot) پھنس جائے اور وہاں خون کی روانی بری طرح متاثر ہو۔ ماہرین کے مطابق اگر اس مرض کی بروقت تشخیص اور فوری علاج نہ کیا جائے تو یہ سنگین پیچیدگیوں، حتیٰ کہ اچانک موت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

بیماری کی وجوہات اور طریقہ کار:
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ انسانی جسم میں موجود پلمونری شریانیں پھیپھڑوں تک خون پہنچانے کی اہم ذمہ داری ادا کرتی ہیں۔ جب کسی شریان میں خون جم کر رکاوٹ پیدا کر دے تو اسے پلمونری ایمبولزم کہا جاتا ہے۔ اکثر یہ لوتھڑا ابتدا میں ٹانگوں کی گہری رگوں میں بنتا ہے، جسے طبی اصطلاح میں ڈیپ وین تھرومبوسز (DVT) کہا جاتا ہے، اور بعد میں یہ خون کے بہاؤ کے ساتھ سفر کرتا ہوا پھیپھڑوں تک جا پہنچتا ہے۔

اہم علامات:
طبی ماہرین کے مطابق اس بیماری کی سب سے نمایاں اور ابتدائی علامت اچانک سانس لینے میں دشواری یا سانس کا پھولنا ہے، جو معمولی جسمانی سرگرمی کے دوران بھی شدید ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دیگر علامات درج ذیل ہیں:

سینے میں شدید درد (جو گہرا سانس لینے، کھانسنے یا جھکنے سے بڑھ جاتا ہے اور دل کے دورے جیسا محسوس ہوتا ہے)۔

دل کی دھڑکن کا غیر معمولی طور پر تیز ہونا۔

چکر آنا، شدید بے چینی اور زیادہ پسینہ آنا۔

بخار اور کھانسی کے ساتھ خون آنا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان علامات کی شدت ہر مریض میں مختلف ہو سکتی ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے سے دل یا پھیپھڑوں کے امراض کا شکار ہوں۔

علاج اور بچاؤ کی تدابیر:
پلمونری ایمبولزم ایک میڈیکل ایمرجنسی ہے جس کے لیے علامات ظاہر ہوتے ہی فوری ہسپتال پہنچنا ضروری ہے۔ بعض پیچیدہ کیسز میں، جہاں ادویات مؤثر ثابت نہ ہوں، خون کے لوتھڑے کو نکالنے اور خون کی روانی بحال کرنے کے لیے ایمرجنسی سرجری بھی کرنا پڑتی ہے۔

ڈاکٹروں نے اس خطرناک بیماری سے محفوظ رہنے کے لیے درج ذیل احتیاطی تدابیر پر زور دیا ہے:

متحرک طرزِ زندگی: روزانہ واک اور ورزش کو معمول بنائیں تاکہ جسم میں خون کی گردش بہتر رہے اور لوتھڑے بننے کے امکانات کم ہوں۔

کمپریشن جرابیں: ٹانگوں میں خون کی روانی برقرار رکھنے اور ڈی وی ٹی (DVT) کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ان خصوصی جرابوں کا استعمال فائدہ مند ہے۔

وزن پر قابو اور پرہیز: موٹاپا، زیادہ وزن اور تمباکو نوشی خون جمنے کے عمل کو تیز کرتے ہیں، اس لیے صحت مند وزن برقرار رکھنا اور سگریٹ نوشی کو فوری ترک کرنا نہایت ضروری ہے۔

صحت کے ماہرین کے مطابق متوازن غذا، مناسب ورزش اور باقاعدہ طبی معائنہ اس خاموش اور جان لیوا بیماری کے خلاف مضبوط ڈھال ثابت ہو سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے