میلانوما کے علاج میں بڑی پیش رفت، ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین مؤثر ثابت ہونے کا دعویٰ

0
میلانوما کے علاج میں بڑی پیش رفت، ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین مؤثر ثابت ہونے کا دعویٰ

میلانوما کے علاج میں بڑی پیش رفت، ذاتی نوعیت کی کینسر ویکسین مؤثر ثابت ہونے کا دعویٰ

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)

لندن: برطانیہ میں جلد کے خطرناک کینسر میلانوما کے علاج اور اس کے دوبارہ نمودار ہونے سے روکنے کے حوالے سے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایک بڑے کلینیکل ٹرائل میں پرسنلائزڈ کینسر ویکسین نے مریضوں کے بیماری سے پاک رہنے کی شرح بہتر بنانے اور کینسر کے جسم کے دیگر حصوں تک پھیلاؤ کا خطرہ کم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

آزمائشی ویکسین میلانوما کے ایسے تقریباً ایک ہزار مریضوں کو دی گئی جن کی پہلے ہی سرجری ہوچکی تھی۔ ویکسین کو کیٹروڈا نامی امیونو تھراپی دوا کے ساتھ استعمال کیا گیا، جو برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس میں مختلف اقسام کے کینسر کے علاج کیلئے استعمال ہوتی ہے۔

ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کے مطابق کیٹروڈا کو اکیلے استعمال کرنے کے مقابلے میں ویکسین اور کیٹروڈا کے امتزاج سے مریضوں کے کینسر سے پاک رہنے کا عرصہ نمایاں طور پر بڑھا، جبکہ بیماری کے دوبارہ ظاہر ہونے اور جسم کے دیگر حصوں تک پھیلنے کا خطرہ بھی کم ہوا۔

یہ ویکسین مریض کے کینسر کی مخصوص خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی جاتی ہے اور مدافعتی نظام کو کینسر کے خلیات کو بہتر انداز میں شناخت کرکے ان کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے میں مدد دیتی ہے۔

تاہم آخری مرحلے کے اس کلینیکل ٹرائل کے تفصیلی نتائج تاحال شائع نہیں ہوئے۔ ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ مکمل نتائج رواں سال کے آخر میں جاری کیے جانے کی توقع ہے۔

اس سے قبل رواں سال شائع ہونے والے ایک چھوٹے مطالعے میں بھی معیاری امیونو تھراپی کے ساتھ تجرباتی ویکسین شامل کرنے سے میلانوما کے دوبارہ ظاہر ہونے یا مریض کی موت کے خطرے میں 49 فیصد تک کمی کے امکانات سامنے آئے تھے۔

دوا ساز کمپنی نے اس پیش رفت کو کینسر کی تحقیق کے میدان میں ایک اہم اور فیصلہ کن لمحہ قرار دیا ہے، تاہم بڑے پیمانے پر استعمال سے قبل حتمی نتائج اور مزید طبی و ریگولیٹری جائزوں کا انتظار کرنا ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے