چین میں اسٹیم سیل تھراپی سے ہارٹ فیلیئر کے علاج میں نئی امید، 10 میں سے 9 مریضوں میں بہتری

0
چین میں اسٹیم سیل تھراپی سے ہارٹ فیلیئر کے علاج میں نئی امید، 10 میں سے 9 مریضوں میں بہتری

چین میں اسٹیم سیل تھراپی سے ہارٹ فیلیئر کے علاج میں نئی امید، 10 میں سے 9 مریضوں میں بہتری

اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)

نانجنگ: چین میں ہونے والی ایک ابتدائی طبی تحقیق میں اسٹیم سیل تھراپی کے ذریعے دل کی ناکامی کے مریضوں کے علاج میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں۔

نانجنگ ڈرم ٹاور اسپتال کے محققین کے مطابق ابتدائی کلینیکل ٹرائل میں شامل 10 مریضوں میں سے 9 کے دل کے افعال میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔

تحقیق میں مریضوں کے اپنے جسم کے خلیوں کو خصوصی طریقے سے تبدیل کرکے انڈیوسڈ پلوری پوٹنٹ اسٹیم سیلز (iPSCs) میں تبدیل کیا گیا۔ بعد ازاں ان اسٹیم سیلز کو دل کے پٹھوں کے مخصوص خلیوں میں تبدیل کرکے مریضوں کے متاثرہ دل کے حصوں میں انجیکٹ کیا گیا۔

محققین کے مطابق اس طریقہ علاج کا مقصد خراب شدہ دل کے ٹشوز کی بحالی، نئے دل کے پٹھوں کے خلیوں کی نشوونما اور دل کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔ تحقیق میں یہ اشارہ بھی ملا کہ یہ طریقہ دل کے پٹھوں میں عمر سے متعلق کمزوری کے عمل کو سست کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

ہارٹ فیلیئر کے مریضوں کو عموماً سانس لینے میں دشواری، شدید تھکن، ٹانگوں میں سوجن، تیزی سے وزن بڑھنے اور مسلسل کھانسی جیسی علامات کا سامنا ہوتا ہے۔ شدید کیسز میں دل کی پیوند کاری مؤثر علاج سمجھی جاتی ہے، تاہم عطیہ کیے گئے دلوں کی محدود دستیابی کے باعث ہر مریض کو یہ سہولت نہیں مل پاتی۔

ماہرین کے مطابق تحقیق کے نتائج امید افزا ہیں، تاہم یہ صرف 10 مریضوں پر مشتمل ابتدائی مرحلے کا ٹرائل ہے۔ اس لیے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز اور طویل مدتی تحقیق کے بغیر اس تھراپی کو ہارٹ فیلیئر کا ثابت شدہ یا عام دستیاب علاج قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے