ایران کی پاسداران انقلاب نیوی کا آبنائے ہرمز بند ہونے کا دعویٰ، خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو تباہی کی دھمکی
ایران کی پاسداران انقلاب نیوی کا آبنائے ہرمز بند ہونے کا دعویٰ، خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو تباہی کی دھمکی
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)
ایران کی پاسداران انقلاب نیوی نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند قرار دیتے ہوئے عالمی بحری جہازوں کو خبردار کیا ہے کہ ایرانی ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایرانی سرکاری خبر ایجنسی ارنا کے مطابق پاسداران انقلاب نیوی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت ممنوع ہے اور ایرانی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے جہاز تباہی سے دوچار ہوسکتے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق آج صبح 20 لاکھ بیرل سے زائد خام تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر غیر مجاز راستے سے آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کے دوران بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ تاہم اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بحری جہازوں سے متعلق متعدد واقعات پیش آئے۔ متحدہ عرب امارات سے منسلک ٹینکر ’ایم ٹی ایس ٹی 3‘ دھماکے کے بعد آگ کی لپیٹ میں آگیا، جبکہ سعودی ساحل کے قریب دو دیگر ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ 13 اکتوبر کو اسی علاقے میں ایک کنٹینر جہاز ڈوبنے کا واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا۔
دوسری جانب بھارتی وزارت جہاز رانی نے تصدیق کی ہے کہ 15 بھارتی عملے کے ارکان پر مشتمل ایک ٹینکر کو بھی میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا، تاہم تمام عملہ محفوظ رہا۔
پاسداران انقلاب کے ترجمان سردار محبی کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کھلی ہونے کا مطلب روزانہ تقریباً 125 جہازوں اور 2 کروڑ بیرل تیل کی نقل و حمل ہے۔ ان کے مطابق جب یہ آمدورفت معمول کے مطابق جاری نہیں تو آبنائے کو کھلا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے امریکی جہازوں کی محدود نقل و حرکت کو اسمگلنگ سے تعبیر کیا۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کا اہم ترین بحری راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی کھپت کے مساوی تیل گزرتا ہے۔ انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن نے بھی غیر ہٹائی گئی بحری بارودی سرنگوں کے باعث جہازرانی کو لاحق خطرات سے متعلق ایڈوائزری جاری کی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ادارے کے مطابق حملوں کا نشانہ بننے والے بعض جہاز تجارتی جرمانوں کے خدشے کے باعث باضابطہ طور پر مدد طلب کرنے سے بھی گریز کررہے ہیں، جس سے صورت حال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے۔
ادھر امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے پسِ پردہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کی حالیہ پیشکش مسترد کردی ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کو لاحق خطرات بدستور برقرار ہیں۔