پاکستان کا آئی ایم ایف سے وعدہ، 2,660 غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ
پاکستان کا آئی ایم ایف سے وعدہ، 2,660 غیر ٹیرف رکاوٹیں ختم کرنے کا فیصلہ
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو یقین دہانی کرائی ہے کہ درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے والی 2,660 سے زائد غیر ٹیرف رکاوٹوں کا جائزہ لے کر ان میں سے متعدد کو جلد ختم کر دیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے تحت ہونے والے معاہدے میں حکومت نے وعدہ کیا ہے کہ جون سے ان پابندیوں کے خاتمے کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ ابتدائی مرحلے میں موبائل فونز اور گاڑیوں کی درآمد پر عائد رکاوٹوں میں نرمی متوقع ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ 76 کسٹمز کوڈز پر لاگو پابندیاں ختم کی جائیں گی، جن کا تعلق آٹوموبائل، ادویات، اسٹیل، خوراک، زرعی اجناس، کاسمیٹکس اور موبائل فونز سے ہے۔ اس اقدام سے ڈیری مصنوعات، ٹیکسٹائل، اسٹیل بارز اور ادویات کی درآمد بھی آسان ہو جائے گی۔
آٹوموبائل سیکٹر میں مکمل اور نیم تیار گاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں نرم کی جائیں گی، جبکہ موبائل فونز کی درآمد کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی منظوری سے مشروط رکھنے کی شرط بھی ختم کی جا سکتی ہے۔ زرعی شعبے میں گوشت، دودھ، پیک شدہ خوراک اور خوردنی تیل کی درآمد کو آسان بنانے کا عندیہ دیا گیا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے خام مال کی درآمد میں بھی رکاوٹیں کم کی جائیں گی۔
ذرائع کے مطابق باقی ماندہ غیر ٹیرف رکاوٹوں کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا اور اس عمل کو 2026 کے اختتام تک کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری اصلاحات کے سامنے پیش کیا جائے گا۔