بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد
بھارت میں عیدالاضحیٰ پر نمازعید اور قربانی پر پابندی عائد
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک) بھارت میں مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کے خلاف مودی حکومت کے حالیہ اقدامات نے ملک کے نام نہاد سیکولر تشخص پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھارتی جریدے ٹائمز آف انڈیا کے مطابق عیدالاضحیٰ سے قبل مودی حکومت کی جانب سے گائے، بچھڑے اور اونٹ کی قربانی پر پابندی سے متعلق سخت وارننگ جاری کی گئی۔ دوسری جانب اتر پردیش کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بقرعید کے موقع پر قربانی اور نمازِ عید کے اجتماعات کے حوالے سے سخت بیانات دیتے ہوئے کارروائی کی دھمکیاں دیں۔
اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے بھی عیدالاضحیٰ سے قبل سڑکوں پر مذہبی سرگرمیوں کو محدود رکھنے کی تنبیہ جاری کی۔ ادھر کلکتہ ہائی کورٹ نے ایک فیصلے میں کہا کہ گائے کی قربانی نہ تو عیدالاضحیٰ کا لازمی حصہ ہے اور نہ ہی اسلام میں اس کا واضح مذہبی حکم موجود ہے، جس پر مسلم حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کی جانب سے قربانی کے جانوروں پر پابندی کے بعد ہندو تاجروں نے بھی احتجاج کیا اور مؤقف اختیار کیا کہ اس فیصلے سے کاروبار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
عالمی ماہرین اور مبصرین کے مطابق بی جے پی کی انتہا پسند پالیسیوں نے بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ریاستی سطح پر فروغ دیا ہے، جس کے باعث ملک اندرونی انتشار اور مذہبی تقسیم کا شکار ہوتا جا رہا ہے۔