برطانیہ میں “جدید غلامی” میں خطرناک اضافہ، 2025 میں 23 ہزار سے زائد ممکنہ متاثرین رپورٹ
برطانیہ میں جدید ٹیکنالوجی سے مجرموں کیلئے لوگوں کو بھرتی کرنا آسان
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)برطانیہ میں زندگی کے بڑھتے اخراجات، قرضوں کا دباؤ اور غیر محفوظ روزگار کے حالات کو انسانی استحصال میں اضافے کا بڑا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے دی انڈپینڈنٹ اینٹی سلیوری کمشنر ایلیون لیونز نے خبردار کیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی بھی مجرم گروہوں کے لیے لوگوں کو غیر قانونی کاموں پر مجبور کرنے اور کنٹرول کرنے کو آسان بنا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2025 میں برطانیہ میں 23 ہزار سے زائد ممکنہ جدید غلامی کے متاثرین کو مانیٹرنگ اداروں کے پاس بھیجا گیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 22 فیصد اضافہ اور اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متاثرین میں سب سے بڑا حصہ برطانیہ کے شہریوں کا ہے، جبکہ دیگر نمایاں گروہوں میں اریٹیریا اور ویتنام کے افراد شامل ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیق جدید غلامی ایکٹ کے نفاذ کے ایک دہائی بعد سامنے آئی ہے اور اس میں 50 سے زائد اداروں کے شواہد کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت کارروائی نہ کی گئی تو انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت اور جنسی استحصال کے کیسز کو روکنا مزید مشکل ہو جائے گا۔
ایلیون لیونز کے مطابق مجرم گروہ بچوں کو آن لائن گیمنگ چیٹس کے ذریعے نشانہ بناتے ہیں، ان کا اعتماد حاصل کر کے انہیں بلیک میلنگ اور گرومنگ کے جال میں پھنسایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لڑکوں کو منشیات کے نیٹ ورکس (کاؤنٹی لائنز) جبکہ لڑکیوں کو جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اور گزشتہ پانچ سال میں لڑکیوں کے جنسی استحصال میں 50 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
برطانوی ہوم آفس کے مطابق حکومت اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پرعزم ہے، متاثرین کی مدد کے اقدامات جاری ہیں اور کیسز کے بیک لاگ کو کم کرنے کے لیے 200 اضافی اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں۔