ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر غور میں مصروف

0
ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر غور میں مصروف

ٹرمپ انتظامیہ ایران کے خلاف محدود فوجی کارروائیوں اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی پر غور میں مصروف


واشنگٹن: امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیران ایران کے خلاف دوبارہ محدود فوجی کارروائیاں شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے کی حکمت عملی بھی زیر غور ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ممکنہ اقدامات ایسے وقت میں زیر غور آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کو مذاکرات میں تعطل ختم کرنے اور ایران پر دباؤ بڑھانے کے ایک طریقے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اخبار کے مطابق صورتحال سے آگاہ افراد نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ کے پاس مکمل فضائی بمباری کی مہم دوبارہ شروع کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، تاہم اس آپشن کو کم ترجیح دی جا رہی ہے کیونکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

مزید برآں، ایک اور ممکنہ آپشن کے طور پر محدود مدت کی ناکہ بندی پر غور کیا جا رہا ہے، جبکہ امریکا اپنے اتحادی ممالک پر بھی دباؤ ڈال سکتا ہے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی سیکیورٹی کے لیے طویل المدتی فوجی مشن کی ذمہ داری سنبھالیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے