تحقیق: پراسیسڈ غذائیں توجہ کمزور اور ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں
تحقیق: پراسیسڈ غذائیں توجہ کمزور اور ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہیں
اسلام آباد(پاکستانی نیوزڈیسک)ایک نئی بین الاقوامی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ الٹرا پراسیسڈ (فیکٹری میں تیار شدہ) غذاؤں پر مشتمل خوراک انسان کی توجہ برقرار رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتی ہے اور طویل مدت میں ڈیمنشیا کے خطرے میں اضافہ کر سکتی ہے۔
یہ تحقیق موناش یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ساؤ پالو اور ڈِیکن یونیورسٹی کے محققین نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ اس میں 2100 سے زائد ایسے آسٹریلوی افراد کا جائزہ لیا گیا جو درمیانی یا زیادہ عمر کے تھے اور ڈیمنشیا سے محفوظ تھے۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق روزانہ معمولی مقدار میں بھی الٹرا پراسیسڈ فوڈز کا زیادہ استعمال دماغی توجہ میں نمایاں کمی سے جڑا ہوا پایا گیا، حتیٰ کہ ان افراد میں بھی جو مجموعی طور پر نسبتاً متوازن خوراک استعمال کر رہے تھے۔
یہ تحقیق الزائمرز اینڈ ڈیمینشیا: ڈائیگنوسس میں شائع ہوئی، جو الزائمرز ایسوسی ایشن کا ایک سائنسی جریدہ ہے۔ محققین کے مطابق نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خوراک کے انتخاب دماغی صحت اور یادداشت پر براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔